Home / اہم خبریں / مری میں پھنسے لوگوں پر کیا قیامت گزری اور انہوں نے کیا دیکھا؟ سن کے رونا آجائے گ

مری میں پھنسے لوگوں پر کیا قیامت گزری اور انہوں نے کیا دیکھا؟ سن کے رونا آجائے گ

مری میں پھنسے لوگوں پر کیا قیامت گزری اور انہوں نے کیا دیکھا؟ سن کے رونا آجائے گ

این این ایس نیوز! مری میں شدید برفباری کے بعد سڑکوں پر درخت اور بجلی کے کھمبے گرے ہوئے ہیں اور لوگ جگہ جگہ کھڑی گاڑیوں کے شیشوں پر دستک دے کر ان کی خیریت پوچھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جب جواب نہیں ملتا تو پھر گاڑیوں کو کھول کر اندر موجود افراد کو طبی امداد دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 مری کی مقامی انتظامیہ، ریسکیو 1122 کے اہلکار اور مقامی افراد محصور مسافروں اور بے ہوش ہونے والوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ اس وقت مری میں شدید برفباری کی وجہ سے سیاح ٹریفک میں محصور ہیں جبکہ گاڑیوں میں طویل وقت تک بیٹھے رہنے، شیشوں کو بند کرنے اور ہیٹر آن ہونے کی وجہ سے بہت سے سیاحوں کے بیہوش ہو جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے اس برفباری میں اب تک 16 سے 19 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن راستوں کی بندش کے باوجود سیاح اب بھی وہاں جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 اسلام آباد سے مری روڈ کی جانب جانے والے مرکزی راستوں پر حکام کی جانب سے چیکنگ کی جا رہی ہے اور راستہ مکمل طور پر بند ہے لیکن مری جانے والے ٹول پلازے پر اب بھی سینکڑوں گاڑیاں کھڑی دکھائی دے رہی ہیں۔ ’لوگ گزرتی گاڑیوں کو ہاتھ دے کر پوچھ رہے ہیں کہ مری جائیں گے’مری کے مقامی شخص شفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ابھی یہاں پر ٹریفک بہت زیادہ ہے اور کم از کم تین سو گاڑیاں سترہ میل ٹول پلازہ پر کھڑی ہیں جبکہ موٹروے پر جانے والے راستے میں پانچ سو کے قریب گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔‘ شفیق کے مطابق وہاں موجود لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ’ہمیں رات سے یہی پتا تھا کہ راستے بند ہیں۔

کچھ لوگ رات تین بجے سے یہاں کھڑے ہیں اور کچھ صبح پانچ بجے سے یہاں کھڑے ہیں۔‘  شفیق نے اپنے سفر کا آغاز آج صبح اسلام آباد سے کیا تھا اور وہ کہتے ہیں کہ ’پہلا پوائنٹ آتے ہوئے سرینہ ہوٹل کے پاس اور دوسرے پوائنٹ ڈھوکری چوک کے پاس چیک پوسٹ لگی ہوئی ہے اور ایک سائڈ بند کی گئی۔ سرینہ چوک بند ہے۔ آگے بھارہ کہو میں آنے والوں کا رش زیادہ ہے۔‘ شفیق کہتے ہیں کہ ’مری کے راستے بند ہو جانے کی اطلاعات کے باوجود بھارہ کہو کی مین مری روڈ پر بہت سے لوگ گزرتی ہوئی گاڑیوں کو ہاتھ دے کر یہ پوچھ رہے ہیں کہ مری جائیں گے۔’ شفیق جو کہ مری کے رہائشی ہیں، ایک کچے راستے سے اپنے گھر جو گھوڑا گلی کے قریب ہے، پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ 

 ’میں برف کی قبر میں دھنسا ہوا ہوں‘بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ سے گفتگو میں ثانیہ داؤد نے بتایا کہ وہ اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ جمعے کی شب مری کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ’ہم لوگ اس وقت جھیکا چوک سے دو سو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ یہاں واش روم کے لیے لائن لگی ہوئی ہے اور سڑک پر دور دور تک صرف گاڑیاں پھنسی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ ہم صبح بچوں کو تھوڑی سی واک کر کے ناشتہ کرانے لے گئے لیکن اب پتا چلا ہے کہ گیس بھی کم ہو چکی ہے۔ راستے میں پھسلن کی وجہ سے نہ گاڑی نکل سکتی ہے

اور نہ ہی اب ہم لوگ کہیں نکل سکتے ہیں۔‘ ریحان عباسی جو جمعے کی شب اپنے آبائی علاقے بیروٹ جا رہے تھے، کا کہنا ہے کہ وہ کل شام چھ بجے سے برف میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ’میں ابھی تک برف میں پھسا ہوا ہوں۔ لوگوں کی گاڑیوں میں ایندھن ختم ہو چکا ہے۔ انتہائی سردی ہے۔ میں نے اپنی گاڑی میں اس طرح وقت گزارا ہے۔ جیسے بس یہ سمجھ لیں کہ میں برف کی قبر میں دھنسا ہوا ہوں۔ قسمت تھی کہ بچ گیا ہوں۔‘ مری کے رہائشی مہتاب عباسی کہتے ہیں کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں برفباری کے دوران ایسی صورتحال نہیں دیکھی۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت وہ سنی بینک میں مرکزی شاہراہ پر موجود ہیں جبکہ ان گاڑی گذشتہ روز سے گلڈنہ سے دو کلومیٹر پیچھے پھنسی ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ گذشتہ روز صبح ساڑھے گیارہ بجے باڑیاں سے نکلے تو اس وقت برفباری شروع ہو چکی تھی۔ ’جمعے کے دن دوپہر بارہ بجے برفباری کا آغاز ہوا۔ میں ٹریفک میں پھنس گیا تو گلڈنہ سے دو کلومیٹر پیچھے ہی گاڑی سے اترا اور پیدل چلنے لگا۔ برفباری کا سلسلہ صبح چھ بجے کے بعد تھم گیا ہے اور اب ہلکی ہلکی دھوپ نکل آئی ہے۔‘ مہتاب نے بتایا کہ رات کو تو انتظامیہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی لیکن اب امدادی اداروں کے اہلکار پیدل جا کر گاڑیوں میں محصور سیاحوں کی مدد کی کوشش کر رہے ہیں۔ مہتاب کہتے ہیں کہ مرکزی علاقوں میں ہوٹل تو کھل گئے ہیں لیکن شدید ٹریفک کی وجہ سے سیاح ایسی جگہوں پر ہیں جہاں سے ان کے لیے یہاں تک پہنچنا مشکل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’اس وقت مشینری کو آگے پیچھے لے جانے میں بھی مشکلات دکھائی دے رہی ہیں۔

ہائی وے کی ایک گاڑی سنی بینک پر پھنسی ہوئی ہے اور دو مشینیں اس سے آگے پھنسی ہوئی ہیں۔‘ مہتاب عباسی کے مطابق اس وقت مری میں بجلی نہیں اور جگہ جگہ بجلی کی تاریں گری ہوئی ہیں۔  ’کچھ گاڑیوں پر دستک دے رہے ہیں تو وہاں سے کوئی جواب نہیں ملتا‘امدادی سرگرمیوں میں شریک ایک مقامی شخص نے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کو بتایا کہ مقامی لوگوں نے اپنے گھروں میں سیاحوں کو جگہ دی ہے جبکہ ہوٹلوں میں بھی لوگوں کو رہائش دی جا رہی ہے اس کے علاوہ دختران اسلام نامی اکیڈمی میں بھی سیاحوں کو رہائش دی گئی ہے۔ ’رات کو انتظامیہ کا فوکس مرکزی سیاحتی مقام پر رہا۔ کلڈنہ کا زیادہ علاقہ جنگل میں ہے انتظامیہ صبح وہاں پہنچی میں خود وہیں موجود ہوں۔ رضاکارانہ طور پر مقامی لوگ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام میں مدد کر رہے ہیں۔‘ صحافی زبیر خان کے مطابق مری روڈ کی نواحی بستی اور امدادی کاموں میں اس وقت شریک ایک شخص گل حسن کے مطابق کچھ گاڑیاں ایسی ہیں جن پر دستک دے رہے ہیں تو وہاں سے کوئی جواب نہیں ملتا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے دو ایسی گاڑیوں کی نشاندہی کی ہے۔ جن کے بارے میں حکام کو آگاہ کیا گیا ہے، ان گاڑیوں پر دستک دی تو کوئی جواب نہیں ملا۔ امدادی کاموں میں شریک اور ایک شخص محمد محسن کا کہنا ہے کہ ہمیں تو لگتا ہے کہ جو صورتحال بتائی جا رہی ہے، حقیقت اس سے زیادہ بری ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح سے امدادی کارکناں مصروف عمل ہیں اور مقامی لوگ بھی مصروف ہیں مگر ہمارے خیال میں یہ سرگرمیاں بہت کم ہیں۔ ہمیں امدادی سرگرمیوں میں انتہائی تیزی پیدا کرنا ہو گی۔ ’پہلی بار سن رہے ہیں کہ مری میں اتنے لوگ ہلاک ہو گئے‘مری میں ایک ہوٹل کے مالک کاظم عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے گذشتہ روز دس خاندانوں کو رہائش فراہم کی لیکن صبح روکے جانے کے باوجود وہ ہوٹل سے چلے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ شام پانچ بجے برفباری کا پھر سے آغاز ہو جائے گا جبکہ پانچ فٹ تک برف پہلے ہی پڑ چکی ہے

اور جو مسافت پیدل 10 منٹ کی تھی اب وہ دو گھنٹے کی ہو چکی ہے اور گاڑی چلنے کا تو سوال ہی نہیں۔ ’پہلے سے معلوم تھا کہ شدید برفباری ہو گی اور ہم نے اپنے سوشل میڈیا پیجز پر سیاحوں سے اپیل بھی کی تھی کہ اگر مری آنا بھی ہے تو اتوار یا پیر کو آئیں لیکن اس وقت بھی ہم سن رہے ہیں کہ ٹول پلازہ سے لوگ پیدل مری کی جانب جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کاظم کہتے ہیں کہ ’ایک ہی حل ہے کہ جو بھی ادارے کام کر رہے ہیں وہ بیلچہ بردار فورس کو لے کر آئیں۔‘ کاظم کے مطابق ماضی میں جب بھی مری میں برفباری ہوئی تو ’تحصیل میونسپل کمیٹی کی بیلچہ بردار فورس ہوتی تھی۔ شہر ان بیلچہ بردار فورس کے اہلکاروں کی جانب سے کلئیر ہوتا تھا اور ان کے ساتھ ہائی وے والے کام کرتے تھے۔

‘ کاظم کہتے ہیں کہ یہاں تین سال پہلے بھی ایسی صورتحال پیدا ہوئی تھی لیکن مری میں ایک بھی جان کا نقصان نہیں ہوا تھا اور اس کی وجہ اداروں کی جانب سے وقت سے پہلے موسم کا مقابلہ کرنے کے لیے منصوبہ بندی تھی۔ ’جب بھی مری میں برفباری ہوتی ہے چھیکا گلی، مال روڈ، جی پی او چوک، گلڈنہ، کارٹ روڈ (سنی بینک سے بس سٹینڈ جاتا ہے) یہاں کی اپنی مشین ہوتی تھی لیکن اس بار پہلے سے منصوبہ بندی دکھائی نہیں دی اور پہلی بار ہے کہ ہم سن رہے ہیں کہ مری میں اتنے لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

Share

About admin

Check Also

مراثی چائے پاپے کا ناشتہ کر رہا تھا، بیوی چولہے کے پاس بیٹھی تھی ، بیٹے نے ٹیپ ریکارڈر میں کیسٹ ڈالی اور بٹن دبا دیا جس پر ایک مذہبی بیان شروع ہوگیا۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد کیا دلچسپ واقعہ پیش آیا ؟ جانیے

مراثی چائے پاپے کا ناشتہ کر رہا تھا، بیوی چولہے کے پاس بیٹھی تھی ، …

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Powered by themekiller.com