Home / اہم خبریں / خواتین و حضرات کو کب خود کو بوڑھا سمجھ لینا چاہیے ؟ایک دلچسپ اور معنی خیز تحریر

خواتین و حضرات کو کب خود کو بوڑھا سمجھ لینا چاہیے ؟ایک دلچسپ اور معنی خیز تحریر

خواتین و حضرات کو کب خود کو بوڑھا سمجھ لینا چاہیے ؟ایک دلچسپ اور معنی خیز تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اب ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ خواتین و حضرات خود کو کب بوڑھا سمجھیں؟؟ باباجی فرماتے ہیں مرد خود کو بوڑھا محسوس کرنے لگے تو سمجھ لے کہ وہ بوڑھا ہوگیا، خواتین کو جب دوسرے لوگ دیکھ کر بوڑھا سمجھنے لگے تو یہی

وقت ہے ان کے ”آنٹی“ ہونے کا۔۔ جب بچے آپ کو نانا، دادا کہہ کر اور حسین لڑکیاں انکل کہہ کر پکارنے لگیں تو تردد سے کام نہ لیں۔۔تنہائی پاتے ہی غم بھلانے کے لئے سیٹی بجائیں، کیونکہ آپ سیٹی ہی کے قابل رہ گئے ہیں۔ بڑھاپے میں اگر اولاد آپ کی خدمت کرتی ہے تو اس سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں، یاتو آپ نے اپنے بچوں کی تربیت پر کافی دھیان دیا ہے یا پھر اپنی لائف انشورنس پر۔۔مردکبھی بوڑھا نہیں ہوتا، یہ کسی ایک بوڑھے کانہیں بلکہ جب سے یہ کائنات بنی ہے تب سے لے کر آج تک ہربوڑھے کا قول ہے۔۔ بوڑھا ہونا الگ چیز ہے، بوڑھا دکھائی دینا الگ۔۔ بوڑھا ہونا آسان کام نہیں،

اس کے لئے برسوں کی ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے۔۔ بڑھاپے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ بوڑھے کو دیکھ کر سب سیٹ چھوڑ دیتے ہیں،سوائے سیاست دان کے،کیوں کہ وہ کبھی سیٹ نہیں چھوڑتا۔۔اچھا خاندان ہو یا اچھی حکومت، ہمیشہ اپنے بوڑھوں کا خیال رکھتی ہے۔۔ بوڑھے نہ ہوتے تو چشموں اور دانتوں کا دھندا بالکل مندا ہوتا۔ بوڑھوں کو بندی اورخاندانی منصوبہ بندی دونوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔مگر نیت اور نظر پھر بھی خراب رہتی ہے۔۔عورتیں بھی بوڑھی ہوتی ہیں، مگر وہ اپنی عمر پر لگام ڈالے رکھتی ہیں، اسی لئے انہیں کہاجاتا ہے۔۔بوڑھی گھوڑی لال لگام۔۔مغربی عورت اپنی عمر چھپاتی ہے نہ جسم۔۔لیکن ہمارے یہاں پینتالیس برس کی اداکارہ میرا آج بھی تئیس سال سے اوپر کی نہیں۔۔ اداکارہ ماہ نور بلوچ نے رواں برس اپنی اٹھائیس ویں سالگرہ منائی، اس کی تاریخ پیدائش انتیس فروری کی ہے۔۔

دنیا میں سب سے آسان کام نانا، نانی یا دادا، دادی بننا ہے،اس میں آپ کو کوئی کوشش نہیں کرنی پڑتی۔۔جو کچھ کرنا ہو، آپ کے بچوں کو کرنا پڑتا ہے۔۔بڑھاپے میں بیوی اور یادداشت کا ساتھ کم ہوجاتا ہے۔۔بڑھاپا اتنا وفادار ہے کہ آخری دم تک ساتھ نبھاتا ہے۔۔یہ کبھی پوچھ کرآتا ہے نہ دھکے دینے سے جاتا ہے۔۔بڑھاپا مغرب میں زندگی انجوائے اور ہمارے یہاں مرض انجوائے کرنے کا اصل وقت سمجھاجاتا ہے۔۔دانت جانے اور دانائی آنے لگتی ہے۔۔اولاد اور اعضا جواب دینے لگتے ہیں۔۔گھر کے کھانے اچھے لگنے لگتے ہیں۔۔

جب اللہ،ڈاکٹر اور بیوی بہت زیادہ یاد آنے لگیں تو سمجھ جائیں کہ آپ بوڑھے ہوچکے۔۔دو بوڑھے جوڑے ایک ہوٹل میں اکٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ پہلا بوڑھا بولا۔۔ ارے یار پچھلے ہفتے میں نے اپنی بیوی کیساتھ ایک بہت اچھے ہوٹل میں کھانا کھایا تھا۔ وہ میری زندگی کا سب سے اچھا ہوٹل تھا۔ دوسرا بوڑھا پوچھنے لگا۔۔ اس ہوٹل کا کیا نام تھا؟۔ پہلا بوڑھا بولا۔۔ ارے یار میری یاداشت بہت کمزور ہو گئی ہے۔ مجھے اس ہوٹل کا نام یاد نہیں آ رہا۔ م سے لڑکیوں کا کونسا نام شروع ہوتا ہے؟۔ دوسرے بوڑھے نے نام بتایا۔۔ ماریہ۔ پہلا بوڑھابولا۔۔ ارے نہیں کوئی اور نام۔ دوسرا بوڑھا پھر کہنے لگا۔۔ مریم۔ پہلا بوڑھا۔۔ ہاں وہی۔ (اپنی بیوی کی طرف مڑتے ہوئے) مریم اس ہوٹل کا کیا نام تھا جس میں ہم نے پچھلے ہفتے کھانا کھایا تھا؟۔۔۔ لاہور میں چارسال جاب کے دوران رہائش بھی وہیں رکھی تو جاننے والوں، ملنے والوں اور دفتری ساتھیوں کے منہ سے اکثر ایک لفظ بہت زیادہ سننے کو ملتا۔۔”بڈھی“۔۔ہم دل میں سوچتے کہ ہر گھر میں بزرگ تو ہوتے ہیں اس لئے یہ اپنے گھر کے بزرگوں کاذکرکررہے ہوں گے لیکن پھر دل میں یہ سوال بھی کھڑا ہوجاتا کہ۔

۔یہ لوگ اپنے گھر کی بزرگ خاتون کو اس طرح بدتمیزی سے ”بڈھی“ کہہ کر مخاطب کیوں کرتے ہیں۔۔جواب کچھ عرصے بعد ملا۔۔جب ہم نے شرمندگی کے ساتھ ایک دوست سے اپنے دل کے حالات بیان کردیئے، وہ بہت زوردار انداز میں ہنسا، پھر ترجمہ کرکے بتایا کہ لاہوری بیویوں کو بڈھی کہتے ہیں۔۔ہم نے شرمندگی چھپاتے ہوئے ہی اگلا سوال کچھ اس طرح داغا۔۔پھر شوہروں کو ”بڈھا“ کہتے ہوں گے۔۔ وہ پھر ہنسا، اور کہا۔۔نہیں،شوہر کو ”خصم“ کہتے ہیں۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔جوائنٹ فیملی میں آپ کا صبر جواب دے سکتا ہے، آپ نہیں۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Share

About admin

Check Also

چلغوزے کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے میں مددگار ایرانی طیارے میں کیا خاص ہے؟ جانیے

چلغوزے کے جنگلات میں لگی آگ بجھانے میں مددگار ایرانی طیارے میں کیا خاص ہے؟ …

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Powered by themekiller.com