Breaking News
Home / اہم خبریں / نور مقدم ناراض ہونے کے باوجود طاہر جعفر کی ایک کال پر دوڑتی ہوئی اس کے پاس کیوں پہنچ گئی؟ دنگ کر ڈلنے والا حقائق منظر عام پر

نور مقدم ناراض ہونے کے باوجود طاہر جعفر کی ایک کال پر دوڑتی ہوئی اس کے پاس کیوں پہنچ گئی؟ دنگ کر ڈلنے والا حقائق منظر عام پر

نور مقدم ناراض ہونے کے باوجود طاہر جعفر کی ایک کال پر دوڑتی ہوئی اس کے پاس کیوں پہنچ گئی؟ دنگ کر ڈلنے والا حقائق منظر عام پر

نامور خاتون کالم نگار نگہت لغاری اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ نور مقدم اور طاہر جعفر دونوں اعلیٰ خاندانوں کی آنکھوں کے نور اور چراغ تھے۔ دونوں میں دوستی تھی اور وہ یورپی معاشرے کی طرز پر Living Relation Ship میں تھے۔

دو چار مہینوں سے دونوں کے آپس کے تعلقات کشیدہ تھے۔ طاہر نے باطن میں ایک سازش سوچی اور نور مقدم کو یہ کہہ کر اپنے گھر بلوا لیا کہ وہ اس کی جدائی کے غم میں ملک سے باہر جا رہا ہے اور اسی رات جانے سے پہلے اسے ملنا چاہتا ہے۔ نور بی بی فوراً اسکے پاس پہنچی۔ دونوں نے فائیوسٹار ہوٹل سے کھانا منگوا کر نوش کیا اور پھر گپ شپ کے دوران کوئی تلخی ہوئی اور طاہر نے اپنے آپ کو مصر کا بااختیار اظہر شاہ سمجھتے ہوئے نور کو زندگی سے محروم کردیا اس کے لیے یہ سب ایسے تھا جیسے اپنے سامنے پڑی پلیٹ میں بڑے سٹیک مِیٹ کو چھری سے کاٹ کاٹ کر کھا رہا تھا۔اب لاتے ہیں مختاراں مائی کو میڈیا کے کٹہرے میں۔

بات صرف اتنی سی تھی کہ ایک 11 سال کے لڑکے نے نازیبا حرکت کرڈالی جس پر لڑکی کے 10,8 رشتہ دار مردوں نے غصے میں آ کر اس لڑکے کی بہن جو مطلقہ تھی اسے نشانہ بنا ڈالا بہت عرصہ تک معاملہ دو خاندانوں میں الجھا رہا ۔ اُڑتی ہوئی خبر کسی طرح کٹی پتنگ کی طرح میڈیا کے آنگن میں گِر پڑی اور پھر پورا میڈیا اس پتنگ پر ٹوٹ پڑا اور پھر مختاراں مائی کی صورت میں ایسی مرغی اُن کے ہاتھ لگ گئی جو دھڑا دھڑا سونے کے انڈے میڈیا کے دامن میں ڈال سکتی تھی۔ مرغی کی ایسی آئو بھگت کی گئی کہ میڈیا کے اپنے طاقتور بازئوں میں بھرکر اُسے نوبل پرائز کے وکٹری سٹینڈ پر کھڑا کر دیا

وہ اور کوٹ پہنے ہاتھوں میں قیمتی دستانے پہنے ترقی یافتہ ملکوں کے ایئر پورٹس پر ملکہ کی طرح Receive کی جاتی اور این جی اوز کے بڑے بڑے افسران اس سے مصافحہ کرتے اور غیر ملکی صحافی ایک دوسرے پر گرتے پڑتے اس کی تصویریں اُتارتے اور وطن واپسی پر اسے گارڈز عطا کر دئیے گئے بعد میں اس نے اپنے چیف گارڈ سے بیاہ رچا لیا اللہ اللہ اور خیر سَلہ وہ مختاراں مائی کے ساتھ بڑی بڑی تقریبات میں بڑے بڑے کھانے اُڑاتا اور اس کی پہلی بیوی بچوں سمیت بڑے لوگوں کے گھروں میں روزی کمانے جاتی۔ اب آتے ہیں موٹروے حادثے کی طرف۔

ایک اکیلی خاتون آدھی رات کو اپنی گاڑی کا دانہ پانی چیک کئے بغیر اپنے سوئے ہوئے تین بچوں کو گاڑی میں ڈال کر کسی رشتہ دار کو ملنے موٹروے پر آ نکلی جب گاڑی بھوک سے نڈھال ہو کر رُک گئی تو اُس نے پولیس کو فون کیا کہ میں فلاں جگہ اس صورتحال میں ہوں اکیلی ہوں میرے ساتھ کوئی مرد نہیں وغیرہ وغیرہ۔ مرد پولیس اہلکار فوراً اس خاتون کے پاس حاضر ہوئے۔ ظاہر ہے پولیس کا کام ہی مدد کرنا ہے وہ فوراً اپنی مردانہ مدد دینے کے لئے خاتون کے پاس آناً فاناً پہنچ گئے اور پھر کہانی کا اگلا حصہ یہ ہے کہ پھر میڈیا نے پورے ملک کے ناظرین کو موٹروے پر دھکیل دیا۔ جزئیات لگا دی گئی ایسی ایسی تفصیلات سامنے آئیں کہ اصل مقدمہ داخلِ دفتر ہو گیا اور میڈیا پرہن برس گیا۔

Share

About admin

Check Also

عشق نہ پچھے ذات : فیس بک کی دوستی رنگ لائی ،امریکہ کی خوبصورت لیڈی ڈاکٹر ایک درزی سے شادی کرنے پاکستان پہنچ گئی ، دلچسپ خبر

عشق نہ پچھے ذات : فیس بک کی دوستی رنگ لائی ،امریکہ کی خوبصورت لیڈی …

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Powered by themekiller.com