Home / اہم خبریں / طے ہو چکا تھا اسٹیبلشمنٹ 2018 میں شہاز شریف کو وزیراعظم بنوانے والی تھی ، پھر ایسا کیا ہوا کہ سب دھرے کا دھرا رہ گیا ؟ حامد میر کے انکشافات

طے ہو چکا تھا اسٹیبلشمنٹ 2018 میں شہاز شریف کو وزیراعظم بنوانے والی تھی ، پھر ایسا کیا ہوا کہ سب دھرے کا دھرا رہ گیا ؟ حامد میر کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب مشرف کو یقین ہو گیا کہ پیپلز پارٹی اُس کے دام میں نہیں پھنسی تو موصوف نے نیب کے ذریعے مخدوم فیصل صالح حیات، رائو سکندر اقبال، نوریز شکور اور رضا حیات ہراج سمیت پیپلز پارٹی کے دس ایم این اے توڑ کر ایک پیٹریاٹ گروپ بنا دیا۔

وفاداری تبدیل کرنے کو پیٹریاٹ ازم کا نام دیا گیا۔ پھر صورتحال نے ایک اور پلٹا کھایا۔محترمہ بےنظیر بھٹو نے مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت سے معذرت کر لی اور شاہ محمود قریشی کو اپنا اُمیدوار بنا لیا۔ 21؍نومبر 2002کو وزیراعظم کا انتخاب ہوا جس میں میر ظفر اللہ جمالی کو 172، مولانا فضل الرحمٰن کو 86اور شاہ محمود قریشی کو 70ووٹ ملے۔جمالی صاحب کو مشرف نے نہیں دراصل محترمہ بےنظیر بھٹو نے وزیراعظم بنوایا اگر پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت کرتی تو جمالی صاحب کا وزیراعظم بننا مشکل تھا۔ یہ ویسی ہی صورتحال تھی جس میں 2018ءمیں عمران خان وزیراعظم بنے۔اگر شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کا ساتھ چھوڑ دیتے تو 2018ءمیں شہباز شریف وزیراعظم بنتے لیکن شہباز شریف نے انکار کیا اور عمران خان کو وزیراعظم بنانا پڑ گیا۔ بات ہو رہی تھی جمالی صاحب کی۔ وہ وزیراعظم تو بن گئے لیکن پرویز مشرف کے منظورِ نظر نہ بن سکے۔ اُن دنوں عمران خان مسلم لیگ (ن) کے بہت قریب تھے۔اُنہوں نے چوہدری نثار علی خان اور خواجہ آصف کے ساتھ قربت کے باعث مولانا فضل الرحمٰن کو وزارتِ عظمیٰ کا ووٹ دیا تھا۔ عمران خان کیپٹل ٹاک میں مشرف پر بہت تنقید کرتے تھے۔ مجھے کبھی لیفٹیننٹ جنرل حامد جاوید اور کبھی طارق عزیز کی طرف سے کہا جاتا کہ عمران خان کو کیپٹل ٹاک میں نہ بلایا کریں۔ میں اُس دبائو سے نکلنے کے لئے جمالی صاحب کی مدد لینے کی کوشش کرتا کیونکہ وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد تو صرف اور صرف مشرف کی مرضی کے مطابق چلتے تھے۔

ایک دن میں نے بیگم سرفراز اقبال سے جمالی صاحب کو سفارش کرائی کہ عمران خان پر غیرعلانیہ پابندی ختم کرائی جائے تو جمالی صاحب نے مجھے کہا کہ میرے تو اپنے معاملات ٹھیک نہیں، میں تمہارے معاملات کیسے ٹھیک کرائوں؟ پتا چلا کہ مشرف صاحب پانچ سو کے کرنسی نوٹ پر قائداعظم کی تصویر ہٹا کر اپنی تصویر لگوانا چاہتے تھے لیکن وزیراعظم نے اِس خواہش کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔ 2004ءمیں مشرف نے امریکہ کے دبائو پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قربانی کا بکرا بنایا اور اُنہیں امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ جمالی صاحب نے اُس فیصلے کی منظوری دینے سے بھی انکار کر دیا لہٰذا اُسی سال جون میں اُن کی چھٹی ہو گئی۔ چوہدری شجاعت حسین نے اپنی کتاب ’’سچ تو یہ ہے‘‘ میں لکھا ہے کہ مشرف چاہتے تھے کہ جمالی صاحب خود شوکت عزیز کا نام بطور وزیراعظم تجویز کریں لیکن جمالی صاحب نے انکار کر دیا اور چوہدری شجاعت کا نام تجویز کر دیا۔بعد ازاں چوہدری صاحب کو شوکت عزیز کا نام تجویز کرنا پڑا لیکن جمالی صاحب کے انکار کے باعث وہ تین ماہ کے لئے وزیراعظم بن گئے۔جمالی صاحب نے اپنی الوداعی تقریب میں الزام لگایا کہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کو فروخت کیا گیا، جس پر مشرف سیخ پا ہو گئے لیکن اُس واقعے کا میڈیا میں بلیک آئوٹ کر دیا گیا۔کچھ سال گزرنے کے بعد جمالی صاحب نے مجھے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کچھ رازوں سے پردہ ہٹا دیا لیکن کچھ راز وہ اپنے ساتھ لے گئے۔اُن کی زندگی کے آخری دنوں میں وہ ہو گیا جو 2002ءمیں نہ ہو سکا تھا۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی ف، نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، بی این پی مینگل اور دیگر جماعتیں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو چکی ہیں۔2002ءمیں بھی اِس اتحاد کو توڑنے کیلئے پیپلز پارٹی پر دبائو ڈالا گیا اور 2020ء میں بھی، اِس اتحاد کو توڑنے کیلئے پیپلز پارٹی کے ساتھ 2002ءمیں دھوکہ ہوا تھا اسلئے 2020ءمیں وہ کسی پر اعتماد کے لئے تیار نہیں۔ جمالی صاحب پیپلز پارٹی کی وجہ سے وزیراعظم بنے۔وہ دنیا چھوڑ گئے لیکن اپنے پیچھے ایک کہانی چھوڑ گئے۔ کہانی کا سبق یہ ہے کہ سیاست میں اصل طاقت عوام کی حمایت ہوتی ہے کسی اور کی حمایت دیرپا نہیں ہوتی، اِسی لئے جمالی صاحب کو استعفیٰ دینا پڑا۔

Share

About admin

Check Also

180نہ ہی 190ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے،تاریخ کی بلند ترین سطح پر ،قیمت کہاں تک جا پہنچی ؟جانیے

180نہ ہی 190ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے،تاریخ کی بلند ترین سطح پر ،قیمت کہاں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com