Breaking News
Home / اہم خبریں / پاک آرمی کے ایک ریٹائرڈ صوبیدار پر اچانک کوئی مصیبت آن پڑی ، وہ مدد کے لیے (ن) لیگی ایم این اے خرم دستگیر کے پاس پہنچے ، پھر وہاں کیسے ووٹ کی عزت کے بیانیے کا پول کھل گیا ؟ بڑا انکشاف

پاک آرمی کے ایک ریٹائرڈ صوبیدار پر اچانک کوئی مصیبت آن پڑی ، وہ مدد کے لیے (ن) لیگی ایم این اے خرم دستگیر کے پاس پہنچے ، پھر وہاں کیسے ووٹ کی عزت کے بیانیے کا پول کھل گیا ؟ بڑا انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) آج ایک عجیب واقعہ پیش آیا جو اگرچہ ذاتی نوعیت کا ہے لیکن اس میں ایک دو اخلاقی اسباق ایسے ہیں جو آج کی سیاست گری کے عکاس اور غماز ہیں، اس لئے قارئین سے شیئر کر رہا ہوں۔صبح 9بجے ناشتہ کر رہا تھا کہ ملازم نے آکر خبر دی کہ

کوئی صوبیدار اسلم صاحب آئے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ نامور مضمون نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میں نے انہیں لان میں ایک کرسی پر بٹھا دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کرنل صاحب سے ملاقات کرنی ہے۔ کچھ دیر بعد جب ان سے جا کر ملا تو انہوں نے ایک تو ماسک پہنا ہوا تھااس لئے ان کو پہچاننے میں دشواری معلوم ہوئی میں نے سلیک علیک کے بعد ان سے پوچھا کہ ہم نے کس جگہ اکٹھے Serve کیا ہے؟ کہنے لگے: ””میرا بیٹا ایمن آباد (نزد گوجرانوالہ) میں ٹرک پر جا رہا تھا کہ ایک موٹرسائیکل سوار ٹرک کی زد میں آ گیا۔ وہ خود تو بچ گیا لیکن موٹرسائیکل چکنا چور ہو گیا۔ اس کے لواحقین میرے پاس پہنچے اور کہا کہ اگر میں ان کو نیا موٹرسائیکل لے کر دے دوں تو وہ پرچہ نہیں کٹوائیں گے اور نہ ہی کوئی اور کارروائی کریں گے۔ میں نے آرمی ویلفیئر ٹرسٹ سے قرضِ حسنہ کی درخواست کی جو منظور ہو گئی۔ وہاں سے مجھے 60ہزار قرض مل گیا۔ لیکن موٹر سائیکل 70، 80 ہزار کا آتا ہے۔ میں اب کسی سے 15،20ہزار روپوں کا امیدوار ہوں۔ اگر کوئی خداترس مجھے یہ رقم بطور قرضِ حسنہ دے دے تو میں ان کا مشکور ہوں گا۔ میں آپ سے قرض لینے نہیں آیا۔ میں صرف اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ اگر گوجرانوالہ کا کوئی SPیا SSPیا DIG آپ کا واقف ہے تو ازراہ مہربانی اسے فون کر دیں کہ مجھے صرف تین ماہ کی مہلت اس لڑکے کے لواحقین سے لے دیں تو میں اس دوران یہ 20ہزار روپے اکٹھے

کرکے ان کو نیا موٹرسائیکل لے دوں گا“۔میں نے کہا: ”کیا آپ نے ایمن آباد کے کسی MNA یا MPA سے بھی رابطہ کیا ہے؟…… وہ موٹرسائیکل والوں سے آپ کے کیس کا تصفیہ کرا دیں گے“۔یہ سن کر صوبیدار اسلم نے جواب دیا: ”جی سر! میں نے گوجرانوالہ کے ایک MNA جناب خرم دستگیر صاحب سے جا کر درخواست کی تھی کہ وہ میری مدد کریں“…… ”تو پھر انہوں نے کیا جواب دیا؟“ میں نے پوچھا۔”سر! خرم دستگیر صاحب نے فرمایا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں۔ ہم نے لوگوں سے ووٹ لینے ہوتے ہیں۔ میں ان کو مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ دس بیس ہزار کا تقاضا چھوڑ دیں۔ وہ بھی تو غریب ہوں گے۔ غلطی آپ کے بیٹے کی تھی۔ آپ خود مان رہے ہیں۔ اس لئے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ آج کل سیاسی حالات ویسے بھی جس طرح جا رہے ہیں، ہمیں لوگوں کے ووٹوں کی ضرورت ہے“۔میں نے یہ سن کر کہا کہ یہ دس بیس ہزار روپے ایک معمولی رقم تھی۔ خرم دستگیر صاحب اپنے پاس سے بھی آپ کی مدد کر سکتے تھے۔ میری بات سن کر اسلم صاحب نے کہا:”شایدمیرا قصور یہ بھی ہے کہ میں ایک سابق فوجی ہوں!“……انہوں نے یہ بات بڑے ہی مایوسانہ لہجے میں کہی…… میں نے یہ سن کر اپنا پرس منگوایا اور جو مدد کر سکتا تھا، وہ کی اور صوبیدار صاحب کو رخصت کر دیا۔اس داستان کا مارل (اخلاقی سبق) یہ ہے کہ کسی فوجی کا رینک کچھ بھی ہو، وہ کسی سے ’خیرات‘ مانگنا گوارا نہیں کرتا۔ ہاں قرضِ حسنہ کی بات دوسری ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میں نے ان کو جو کچھ دیا، وہ انہوں نے کس انکار اور کس مجبوری کے بعد ’قبول‘ کیا…… اور دوسرا مارل یہ ہے کہ سیاست بڑا ہی سنگدل پروفیشن ہے…… اس میں اخلاقیات کو ووٹ پر ترجیح دینے کا چلن ایک روائت بن گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر خرم دستگیر صوبیدار اسلم کو 20ہزار دینے کی کوشش کرتے تو وہ اس کو ہرگز قبول نہ کرتے۔ لیکن ان کو تکلیف یہ تھی کہ اس ”ووٹ“ نے ان کی ایک جائز درخواست کو بھی اس لئے درخوراعتناء نہ سمجھا کہ کل کلاں ان کو ووٹ لینے انہی لوگوں کے پاس جانا تھا۔……”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ اس اعتبار سے بھی کھوکھلا ہے کہ یہ ووٹ کے تقدس کو Upholdکرنے کے لبادے میں کسی ووٹ نہ دینے والے حاجت مند کی حاجت روائی کرنے کی راہ میں حائل ہوتا ہے۔

Share

About admin

Check Also

نوٹیفکیشن واپسی۔۔۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے لیاگیا،عوام کیلئے بہت بڑی خوشخبری

نوٹیفکیشن واپسی۔۔۔تیل کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے لیاگیا،عوام کیلئے بہت بڑی خوشخبری عوامی دباؤ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com