Breaking News
Home / انٹرنیشنل / پونے دوسال قبل پاکستان کے دورے پر آئے مہاتیر محمد جاتے ہوئے کیا گر کی بات کہہ گئے ؟ کالم نگار آصف عفان کی زبردست تحریر

پونے دوسال قبل پاکستان کے دورے پر آئے مہاتیر محمد جاتے ہوئے کیا گر کی بات کہہ گئے ؟ کالم نگار آصف عفان کی زبردست تحریر

لاہور(ویب ڈیسک) قلم سے نکلنے والی سیاہی جب آنسو بن کر ہر سطر ہی بھگو ڈالے اور کاغذ سسکیاں لیتا دکھائی دے تو الفاظ سینہ کوبی کیوں نہ کریں۔ اعراب دامن چاک کیے بالوں میں خاک کیسے نہ اڑاتے پھریں۔ سانحات اور صدمات کے ما=رے عوام

اور حکمرانوں کا بھی عجب رشتہ ہے۔ نامور کالم نگار آصف عفان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوشحالی کے جھانسوں سے لے کر عزتِ نفس کی بحالی کے فریب تک نجانے کیسے کیسے دھوکے کھانے والے عوام کی حیثیت ہی کیا۔ یہ کہاں کے حکمران اور کیسا طرز حکمرانی ہے۔ بیماروں کو شفا نہیں۔ حکمرانوں میں وفا نہیں۔ مظلوم کی داد رسی نہیں۔ بچوں میں بچپن کی بے فکری نہیں۔ پڑھے لکھوں کا مستقبل نہیں۔ بڑھاپے کا آسرا نہیں۔ چہروں پہ مسکراہٹ نہیں۔ ہنرمندوں کی قدر نہیں۔ منہ زور کے آگے شرفا کی وقعت نہیں۔ سماجی انصاف نہیں۔ قانون کی پاسداری نہیں۔ عزت سے لے کر جان و مال تک کچھ بھی تو محفوظ نہیں۔ لکھنے والوں کے قلم خشک ہونے کے ساتھ ساتھ الفاظ بھی ختم ہو چکے ہیں‘ لیکن عوام کی سیاہ بختی کسی طور ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ نصیب کی سیاہی نے نجانے کہاں کہاں کالک مل دی ہے۔ ہر سو ایسا اندھیرا چھایا ہوا ہے کہ کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سسکتے بلکتے الفاظ یکایک دھاڑیں مار کر رونے لگیں گے۔ کوئی نظر بد ہے یا آسیب‘ پتا نہیں کیا ہے۔ ان کی نیتوں کا کھوٹ کب تک عوام کی قسمت کھوٹی کرتا رہے گا؟مالی بدعنوانی پر کبھی تختہ دار پر چڑھانے کی باتیں کی جاتی ہیں اور کبھی برطرفی کی۔ کبھی چینی ماڈل متاثر کرتا ہے تو کبھی انقلاب ایران کی مثال دی جاتی ہے۔ کبھی مہاتیر محمد کی مثال دی جاتی ہے تو کبھی ریاست مدینہ کو رول ماڈل بنایا جاتا ہے۔ پونے دو سال قبل پاکستان کے دورے پر آئے

ملائیشیا کے تاریخ ساز حکمران مہاتیر محمد جاتے جاتے ہمارے حکمران کو ایک پتے کی بات کہہ گئے تھے کہ ”قیادت چور نہیں ہونی چاہیے‘ ورنہ مالی بدعنوانی اور چوری کا خاتمہ ممکن نہیں ہوتا‘‘۔ مہاتیر محمد کی بات سولہ آنے نہیں‘ بلکہ سولہ سو آنے درست ہے‘ گویا وہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارا بنیادی مسئلہ اور اصل بیماری کیا ہے۔ 94 سالہ مہاتیر محمد کی طرف سے اس مشورے اور نصیحت پر یہ کہا جا سکتا ہے:جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے‘ باغ تو سارا جانے ہے۔۔۔بطور وزیر اعظم عمران خان کی پہلی تقریر سنتے ہی عوام جھوم اٹھے تھے۔ گویا‘ آ گیا وہ شاہکار‘ جس کا تھا انتظار۔ اب راج کرے گی خلق خدا۔ کرپشن‘ لوٹ مار‘ اقربا پروری کے سیاہ دور کا خاتمہ ہو گا۔ کم و بیش اسی طرح کے خوش کن خیالوں میں گھرے عوام وزیر اعظم صاحب کی پہلی تقریر کو اس منزل کا نقطہ آغاز سمجھ بیٹھے جس کا خواب دھرنوں اور انتخابی مہم میں عوام کو تواتر سے دکھایا گیا تھا۔ اور اب یہ عالم ہے کہ عوام کو دکھایا جانے والا وہ خواب بتدریج ایک جھانسہ محسوس ہونا شروع ہو گیا ہے۔ گڈ گورننس اور بہترین طرز حکمرانی کے دعویداروں نے اپنے دور اقتدار کے ابتدائی چند ماہ میں ہی عوام کی خوش گمانیوں کا سارا نشہ ہوا کر دیا اور دکھائے جانے والے تمام سنہری خواب چکنا چور کر ڈالے۔ جس دور حکومت میں خلق خدا نے راج کرنا تھا‘ اس دور میں تھانہ‘ پٹوار اور ہسپتال سے لے کر ایوان اقتدار تک کچھ نہیں بدلا۔ عوام کے لیے ذلت‘ دھتکار اور پھٹکار کے سارے منظر جوں کے توں ہیں۔معیشت سے لے کر عوام کی قسمت تک‘ سب پر جمود طاری ہے۔ سیاسی اشرافیہ ہو یا افسر شاہی‘ چوری اور لوٹ مار کی داستانوں کی گونج آج بھی اسی طرح سنائی دے رہی ہے جیسے سابقہ ادوار میں سنتے چلے آئے تھے۔ کتنے جھانسے اور دھوکے باقی ہیں‘ جو عوام نے ابھی کھانے ہیں‘ خدا جانے! عرصہ اقتدار کی نصف مدت ختم ہونے کو ہے لیکن طرز حکمرانی کا ماڈل کیا ہوگا اس کا انتخاب ہونا ابھی باقی ہے۔ یہاں کسی ماڈل کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے؛ تاہم تازہ ترین انڈونیشین ماڈل پیش خدمت ہے اسے بھی دیگر ماڈلز کے ساتھ شو کیس کی زینت بنایا جا سکتا ہے۔

Share

About admin

Check Also

دنیا کے جاہل ترین 10 ممالک کی فہرست جاری ، بھارت پہلے نمبرپر

دنیا کے جاہل ترین 10 ممالک کی فہرست جاری ، بھارت پہلے نمبرپر کراچی(این این …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com