Breaking News
Home / اہم خبریں / صابر شاکر نے قوم کو بڑی خبر دے دی

صابر شاکر نے قوم کو بڑی خبر دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار صابر شاکر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔چند ماہ قبل تک اسرائیل جو مسلم اُمّہ کا دشمن اوّل سمجھا جاتا تھا‘ اب اسی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے امریکی منصوبے پر برق رفتاری سے عمل ہوتا نظر آرہا ہے اور پاکستان نے انہی عرب ملکوں کی

دشمنی کو اپنی دشمنی سمجھ کر اسرائیل کے خلاف لڑائیوں میں ان کی مدد بھی کی‘ آج دوطرفہ تعلقات کی بنیاد پرعرب اور خلیجی ممالک اسرائیل کو تسلیم کررہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے بعد مراکش ‘ سوڈان‘ بحرین اسرائیل سے تعلقات استوار کرچکے جبکہ انڈیا کے ذریعے بھوٹان میں بھی اسرائیل پہنچ چکا ہے۔ اسرائیل کے وزیراعظم‘ موساد چیف کے ہمراہ سعودی عرب میں امریکی وزیرخارجہ کی موجودگی میں ولی عہدمحمد بن سلمان سے بھی ملاقات کرچکے اور غالب امکان یہی ہے کہ سعودی عرب کچھ مزید شرائط منواکر اور اندرونی طور پر اپنی گرفت مضبوط کرکے اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ تعلقات قائم کرلے گاکیونکہ اسرئیلی شہریوں اور سرمایہ کاروں کا آنا جانا شروع ہوچکا اور اسرائیل کے لیے سعودیہ کی فضائی حدود بھی کھول دی گئی ہیں۔ مسلم حکمران اسرائیل کو تسلیم کیے جارہے ہیں جبکہ عوامی سطح پر کروائے جانے والے سروے کے مطابق ان گیارہ ملکوں کے 82 فیصد مسلم عوام اسرئیل کو تسلیم کرنے کے عمل کے خلاف ہیں ‘عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب کے بعد پاکستانی عوام آج کل ترکی اور صدرطیب اردوان کے مداح ہیں اور ارطغرل کا کردار ادا کرنے والے اداکار کو اصل ہیرو سمجھ کر اپنی محبتیں اور دولت نچھاور کر رہے ہیں مگر ترکی کے اسرائیل سے تعلقات ایسے ہیں کہ ترکی اور اسرائیل کے حکمرانوں کا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا لگا رہتا ہے اور دوسال سے جاری باہمی تعلق میں تعطل ختم ہوچکا اور ترکی نے دوبارہ اپنا سفیر اسرائیل کے لیے تعینات کردیا ہے۔ یہ سب پیش رفت تیزی سے ہورہی ہیں

اور امریکی وزیرخارجہ پومپیو اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لیے ایک درجن سے زائد ملکوں کا دورہ کرچکے ہیں اور واضح کرچکے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی سوچ کے حامل ممالک ‘ سرطان زدہ‘‘ ہوسکتے ہیں‘اس لیے اسرائیل مخالف رویوں کو ترک کردیا جائے‘ جبکہ نو منتخب امریکی صدر جوبائیڈن اپنی انتخابی مہم کے دوران کہہ چکے ہیں کہ مسلم اکثریتی ملک پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرلے تو یہ پائیدار امن کے لیے بہت مفید ہوگا۔پاکستان کے اسرائیل سے معاملات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری تمام حکومتوں نے اس بارے میں اپنے عوام کو مکمل اندھیرے میں رکھا اور حقائق کے برعکس عوامی سطح پر کبھی بھی اسرائیل کے حق میں بات کرنا تو درکنار اسرائیل کا نام لینا بھی شجر ممنوعہ قرار پایا‘ مگر زمینی حقائق مختلف ہیں اور اب جو خبریں اسرائیل اور مغربی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہم تک پہنچ رہی ہیں ان کے مطابق ماضی قریب کی تمام حکومتوں بشمول نوازشریف‘ محترمہ بے نظیر بھٹو‘ پرویز مشرف‘ سب نے اسرائیل کے ساتھ خفیہ رابطے رکھے اور تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کی ۔موجودہ حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنا تو درکنار‘ کسی بھی قسم کے تعلقات اور رابطوں کی نفی کررہی ہے ۔وزیراعظم عمران خان اوروزیرخارجہ شاہ محمود قریشی مسلسل دوٹوک انداز میں ایسی تمام خبروں کی تردید کررہے ہیں‘ دوسری جانب جو صورتحال جنم لے رہی ہے اور پاکستانی صحافی اسرائیلی ذرائع ابلاغ پر کھل کر پاکستان اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کی بات کررہے ہیں‘اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملات اتنے سادہ نہیں جیسا کہ بیان کئے جارہے ہیں ۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ غیر محسوس انداز میں کہیں نہ کہیں اس بارے عوامی سطح پر ذہن سازی کا عمل شروع ہوچکا ہے کہ مستقبل قریب میں جب یہ اُفتاد آن پڑے تو متوقع ردعمل سے بچا جاسکے یا ردعمل کم سے کم ہو کیونکہ ریاست کا کام بند گلی میں قید ہونا نہیں ہوتا بلکہ تعلقات کی نئی راہیں تلاش کرنا ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں خارجہ تعلقات کی زیادہ سے زیادہ لبرل سوچ کو فروغ دیا جارہا ہے۔

Share

About admin

Check Also

سرکاری ملازمین کی موجیں۔۔ایک اور بڑی خوشخبری 18 دسمبر سے چھٹیاں کا اعلان کر دیا گیا

سرکاری ملازمین کی موجیں۔۔ایک اور بڑی خوشخبری 18 دسمبر سے چھٹیاں کا اعلان کر دیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com