Breaking News
Home / اہم خبریں / گھوڑے کی دم کا بال لیں اور اس سے اپنا جسم پر موجود تل کو نرمی سے باندھ دیں 3دن بعد کیا حیران کن کرشمہ پیش آئے گا ؟

گھوڑے کی دم کا بال لیں اور اس سے اپنا جسم پر موجود تل کو نرمی سے باندھ دیں 3دن بعد کیا حیران کن کرشمہ پیش آئے گا ؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) گھوڑے کی دم کا بال لیں اور اس سے اپنا جسم پر موجود تل کو نرمی سے باندھ دیں ، 3دن بعد کیاکرشمہ پیش آئے گا ؟ جانیں ۔۔مسے کسی کو اچھے نہیں لگتے، چہرے، گردن یا جسم کے ان حصوں پر جو کھلے رہتے ہیں، مسے نکل آنا پریشان کن ثابت ہوتا ہے۔

خاص طور پر خواتین اپنی خوبصورتی کے حوالے سے زیادہ محتاط ہوتی ہیں، اس لئے مسے ان کے لئے زیادہ پریشان کن ثابت ہوتے ہیں۔اگرچہ یہ تکلیف دہ نہیں ہوتے لیکن چہرے یا گردن پر ہوں تو بدنما لگتے ہیں۔زمانہ قدیم سے مسے ہٹانے یا ختم کرنے کے لئے مختلف طریقے آزمائے جاتے رہے ہیں، ریزر یا بلیڈ کے ساتھ کاٹنے پر یہ دوبارہ اگ آتے ہیں، پرانے زمانے میں گدھے یا گھوڑے کی دم کا بال لے کر اسی مسے کے گرد کس کر باندھ دیا جاتا تھا اور چند دن میں یہ بال مسے کو اس طرح سے کاٹ ڈالتا تھا کہ درد کا احساس ہوتا تھا نہ خون نکلتا تھا۔اب مگر ایک ایسا طریقہ بھی عام ہو رہا ہے جس سے بغیر کسی درد یا تکلیف کے ان سے نجات پائی جا سکتی ہے۔اس مقصد کے لیے آپ کو چاہیے ایپل سیڈر یعنی سیب کا سرکہ اور تھوڑی سی روئی۔روئی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لیں جو سائز میں مسے سے بڑا نہ ہو، اسے سرکے میں بھگوئیں اور پھر ہلکا سا نچوڑ کر اسے مسے پر رکھیں، اور اسے وہاں پر ٹکائے رکھنے کے لئے پٹی باندھ دیں یا ٹیپ چپکا دیں۔رات کو یہ عمل کر کے سو جائیں اور صبح اٹھ کر اسے صابن سے دھو لیں۔ہر روز یہی عمل تین چار روز تک دہرائیں، پہلے مسے کی رنگت بدلے گی، بھورے سے سیاہ ہو گی اور پھر وہ سوکھنے لگے گا، تین چار روز بعد وہ خود ہی جھڑ کر علیحدہ ہو جائے گا۔اس عمل سے اول تو جلد پر کوئی نشانہ نہیں آئے گا تاہم اگر ایسا ہو بھی تو ایلوویرا کا جوس چند دن مسلسل لگاتے رہیں، داغ خود ہی ختم ہو جائے گا۔

Share

About admin

Check Also

فیصل آباد میں دکانداروں کا کچرا چننے والی خواتین کو بے لباس کر کے تشدد ،انتہائی افسوسناک ویڈیو

فیصل آباد میں دکانداروں کا کچرا چننے والی خواتین کو بے لباس کر کے تشدد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com