Breaking News
Home / اہم خبریں / نوجوانوں کے کام کی تحریر

نوجوانوں کے کام کی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک، ایمازون کے بانی جیف بیزوس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کے سب سے امیر شخص بن گئے ہیں۔الیکٹرک کار کمپنی کے حصص کی قیمت میں اضافے کے بعد ’ٹیسلا‘ اور ’سپیس ایکس‘ کے مالک کی دولت کی مجموعی مالیت 185ارب ڈالر کو عبور کر چکی ہے۔

تو ان کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ کچھ سال پہلے میں نے اس کے ساتھ تقریباً ایک گھنٹہ اس پر بحث کی۔ اب جب انھوں نے ایک نیا سنگ میل حاصل کر لیا ہے تو ہم نے اس انٹرویو کو آپ کے ساتھ شیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئیے ایلون مسک سے جانتے ہیں کہ کسی بھی کاروبار میں کامیابی کے راز کیا ہیں۔1. صرف اور صرف پیسے کمانے کے بارے میں مت سوچیں:یہ رول کاروبار کے بارے میں ایلون مسک کے رویے کے مرکزی خیال کا عکاس ہے۔جب میں نے 2014 میں ان سے انٹرویو لیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کتنے امیر ہیں۔ایلون مسک دولت کمانے کے شوقین افراد کے خلاف نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں دولت کے پیچھے ضرور دوڑیے ’بشرطیہ کہ یہ اخلاقی اور اچھے انداز میں ہو‘ لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ چیز (دولت) ان کی آگے بڑھنے میں حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔یقینی طور پر ان کا یہ طرزِ عمل کام کر رہا ہے۔ان کی الیکٹرک کاروں کی کمپنی، ٹیسلا نے خاص طور پر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ گذشتہ سال کے دوران اس کمپنی کے حصص میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی قیمت 700 ارب ڈالر سے زیادہ تک پہنچ چکی ہے۔اور آپ صرف ایک کمپنی ٹیسلا کی مالیت کے ذریعے فورڈ، جنرل موٹرز، بی ایم ڈبلیو، ووکس ویگن اور فیاٹ کرسلر جیسی کمپنیاں خرید سکتے ہیں، اور اس کے باوجود آپ کے پاس فراری خریدنے کے لیے رقم بچ جائے گی۔لیکن مسک، جو

رواں سال 50 برس کے ہو گئے ہیں، کو توقع نہیں ہے کہ زندگی کے آخری وقت (یعنی بڑی عمر کو پہنچنا) تک وہ امیر رہیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ ان کا بیشتر پیسہ مریخ پر اڈے کی تعمیر میں خرچ ہو گا، اور اگر اس منصوبے پر ان کی تمام جمع پونجی بھی لگ جائے تو انھیں حیرت نہیں ہو گی۔درحقیقت بل گیٹس کی طرح وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی زندگی کا خاتمہ ایسے ہو کہ ان کے بینک میں کروڑوں روپے جمع ہیں تو وہ اسے اپنی ناکامی سمجھیں گے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ انھوں نے اس رقم کو بہتر انداز میں استعمال نہیں کیا تھا۔2. اپنے شوق کا پیچھا کریں: ایلون مسک کس چیز کو کامیابی کی کنجی سمجھتے ہیں، مریخ پر بننے والا اڈہ اس کی ایک بہترین مثال ہے۔انھوں نے مجھے بتایا ’آپ مستقبل بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو یہ نئی دلچسپ چیزیں کرنا ہوں گی جو زندگی کو بہتر بناتی ہیں۔‘سپیس ایکس کی مثال لے لیں۔ ایلون مسک نے مجھے بتایا کہ انھوں نے کمپنی اس لیے قائم کی کیونکہ وہ مایوس تھے کہ امریکہ کا خلائی پروگرام اتنا پرعزم نہیں تھا جتنا اسے ہونا چاہیے۔انھوں نے کہا ’میں توقع کرتا رہا کہ ہم زمین سے آگے بڑھیں گے اور لوگوں کو مریخ تک پہنچاییں گے، اور چاند پر ایک اڈہ بنائیں گے اور مدار میں جانے کے لیے باقاعدہ پروازیں شروع کریں گے۔‘جب ایسا نہیں ہو سکا تو وہ ’مارس اوسیس مشن (مریخ پر نخلستان)‘

کا آئیڈیا لے کر آئے جس کا مقصد اس سرخ سیارے پر ایک چھوٹا سا گرین ہاؤس بھیجنا تھا۔ خیال یہ تھا کہ لوگوں کو ایک بار پھر خلا کے بارے میں پُرجوش کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی حکومت کو ناسا کا بجٹ بڑھانے پر راضی کیا جائے۔جب وہ زمین سے دور جانے کا سوچ رہے تھے، اسی وقت انھیں احساس ہوا کہ مسئلہ ’خواہش کا فقدان نہیں بلکہ رہنمائی اور ذرائع کی کمی‘ ہے۔۔۔ خلائی ٹیکنالوجی سوچ سے بھی مہنگی ہے۔اور لیجیے یہیں سے دنیا کے سب سے سستے راکٹ لانچنگ کاروبار کا آغاز ہوا۔اور یہاں اہم بات یہ ہے کہ اس کاروبار کا آغاز پیسہ کمانے کے لیے نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مقصد کسی شخص کو مریخ پر بحفاظت اتارنا تھا۔مسک نے مجھے بتایا کہ وہ خود کو ایک سرمایہ کار کی بجائے ایک انجینیئر کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صبح جو چیز ان میں اٹھ کر کام کرنے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے وہ تکنیکی مشکلات کو حل کرنے کی خواہش ہے۔بینک میں ڈالر جمع کرنے کے بجائے، ترقی کو ناپنے کا، ان کا پیمانہ یہی ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ان کا کاروبار اگر کسی بھی رکاوٹ کو حل کر لیتا ہے تو اس کا مطلب ہے اس سے ہر شخص کی مدد ہو گی جو وہی تکنیکی مشکل حل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ہماری ملاقات سے کچھ دیر قبل ایلون مسک نے اعلان کیا تھا کہ وہ دنیا بھر میں برقی گاڑیاں بنانے کے کام کو تیز

کرنے کے لیے ٹیسلا کے پیٹنٹ اوپن کر رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ برقی گاڑیاں بنانے کا اپنا طریقہ کار اور جو بھی وہ اس حوالے سے جانتے ہیں، وہ گاڑیاں بنانے والی دوسری کمپنیوں سے شئیر کرنے کو تیار ہیں۔3. کچھ بڑا کرنے سے گھبرائیں نہیں:ایلون مسک کے کاروبار کے بارے میں حیرت انگیز چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ خود کتنے نڈر ہیں۔وہ کار کی صنعت میں انقلاب لانا چاہتے ہیں، مریخ پر آبادی بسانا چاہتے ہیں، وہ ویکیوم ٹنلز میں تیز رفتار ٹرینیں چلانا چاہتے ہیں، آرٹیفشل انٹیلیجنس کو انسانی دماغ سے مربوط کرنا چاہتے ہیں اور شمسی توانائی اور بیٹری کی صنعتوں کو مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ان کے تمام منصوبے ایسے مستقبل کے متعلق خیالی تصورات ہیں جو شاید آپ نے 80 کی دہائی کے اوائل میں بچوں کے میگزین میں دیکھے ہوں گے۔ان کے سرنگوں کے کاروبار کو بورنگ کمپنی کہا جاتا ہے۔وہ اس حقیقیت کو چھپانے سے انکار نہیں کرتے کہ جنوبی افریقہ میں گزارے گئے بچپن میں پڑھی جانے والی کتابوں اور فلموں نے ان پر خاصا اثر ڈالا۔مسک کی تیسری کاروباری ٹپ یہی ہے کہ ’پیچھے نہ ہٹیں۔‘ان کا خیال ہے کہ بیشتر کمپنیوں کی ڈھانچے میں عزم کی کمی رچی بسی ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ بہت ساری کمپنیاں ’انکریمنٹلسٹ‘ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کسی بڑی کمپنی کے سی ای او ہیں اور کچھ معمولی سی بہتری کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس میں توقع سے زیادہ وقت لگ جاتا ہے اور اس سے کام بھی بہتر نہیں ہوتا تو کوئی آپ پر

الزام نہیں لگائے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری نہیں، سپلائر کی غلطی تھی۔‘’اگر آپ جرات مند انسان ہیں اور واقعی بہتری چاہتے ہیں لیکن آپ کا بنایا منصوبہ نہیں چل پاتا تو یقیناً آپ کو نوکری سے نکالا جائے گا۔‘وہ کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر کمپنیاں مکمل طور پر نئے منصوبوں کا تصور کرنے کی ہمت کرنے کے بجائے اپنی موجودہ مصنوعات میں چھوٹی چھوٹی بہتری لانے پر توجہ دیتی ہیں۔لہذا ان کا مشورہ یہ ہے کہ آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ واقعی اہم کام کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔مسک کے لیے اہم چیزوں کی فہرست میں دو چیزیں سب سے زیادہ اہم ہیں۔پہلی، وہ فوسل فیول سے حاصل ہونے والی توانائی کی رفتار کو تیز کرنا چاہتے ہیں۔اس بارے میں ان کا یہ کہنا تھا کہ: ’ہم گہرائی میں گیس فیلڈز اور تیل کے ان کنوؤں کو کھود رہے ہیں جن پر کیمبرین عہد کے بعد سے آج تک توجہ نہیں دی گئی۔ آخری مرتبہ اس پر بہت پہلے کام ہوا تھا۔۔ لہذا سوال یہ ہے کہ کیا یہ دانشمندانہ اقدام ہے؟‘دوسرا وہ مریخ پر آبادی بسانے اور اس سے ایک سے زائد سیاروں پر زندگی ممکن بنا کر انسانیت کی طویل مدتی بقا کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا، سوچ کو بڑا کریں۔4. رسک لینے کے لیے تیار رہیں:یہ تو واضح ہے۔کسی بھی کاروبار میں بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے آپ میں نقصان برداشت کرنےکا حوصلہ ہونا چاہیے لیکن ایلون مسک نے دوسروں سے زیادہ خطرات مول لیے ہیں۔سنہ 2002 تک انھوں نے اپنی پہلی دو کاروباری

کمپنیوں میں اپنے حصص فروخت کر دیے تھے اس میں زپ 2 نامی انٹرنیٹ سٹی گائیڈ اور آن لائن ادائیگیوں والی کمپنی پے پال شامل ہیں۔ اس وقت وہ تقریباً 30 سال کے تھے اور ان کے پاس بینک میں تقریباً 200 ملین ڈالر موجود تھے۔وہ کہتے ہیں کہ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ اپنی نصف دولت کو کاروبار میں ڈالیں اور باقی آدھا حصہ بچا کر رکھیں۔لیکن سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا آپ نے سوچا ہو۔ جب میں ان سے ملا اس وقت وہ اپنی کاروباری زندگی کے تاریک ترین دور سے ابھر رہے تھے۔ان کی نئی کمپنیوں کو ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سپیس ایکس کے پہلے تین لانچ ناکام ہو چکے تھے اور ٹیسلا میں پروڈکشن، سپلائی چین اور ڈیزائن کے مسائل درپیش تھے۔پھر مالی بحران آیا۔مسک کہتے ہیں کہ انھیں انتخاب کرنا پڑا ’میں یا تو پیسہ محفوظ رکھ سکتا تھا لیکن اس صورت میں کمپنیاں یقیناً ختم ہونے والی تھیں، یا جو کچھ میرے پاس ہے اس سے سرمایہ کاری کروں اور اس صورت میں مجھے کوئی موقع ملنے کی امید تھی۔‘وہ پیسے لگاتے گئے۔انھوں نے مجھے بتایا کہ ایک موقع پر وہ اس قدر مقروض ہو چکے تھے کہ انھیں دوستوں سے اپنے روزمرہ اخراجات ادا کرنے کے لیے قرض لینا پڑا۔تو کیا دیوالیہ پن کے امکان نے انھیں خوفزدہ کیا؟ان کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہوا: ’میرے بچوں کو شاید سرکاری سکول میں جانا پڑے۔ اور اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے، میں خود ایک سرکاری سکول سے پڑھا ہوں۔‘5. تنقید کرنے والوں کی باتوں پر کان نہ دھریں: جس چیز نے ایلون مسک کو حیران کیا،

اور وہ اب بھی اس سے بہت پریشان ہیں، وہ یہ تھی کہ ان کے ناقدین اور تبصرہ نگاروں نے ان کی ناکامی پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔مسک کہتے ہیں ’یہاں متعدد بلاگ سائٹس موجود تھیں جو ٹیسلا کے ختم ہونے جانے پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔‘میں نے انھیں کہا شاید لوگ اس لیے انھیں ناکام ہوتے دیکھنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے عزائم کے متعلق ایک قسم کا تکبر پایا جاتا ہے۔انھوں نے اسے مسترد کر دیا۔ وہ کہتے ہیں ’اگر ہم نے کہا ہوتا کہ ہم یقینی طور پر ایسا کرنے جا رہے ہیں تو یہ غرور ہوتا، لیکن ہم نے تو کہا تھا کہ ہم ایسا کرنے کے خواہش مند ہیں اور اس کے لیے اپنی پوری قوت لگائیں گے۔‘اس سے ہمیں کاروبار میں کامیابی کے متعلق مسک کے اگلے راز کا پتا چلتا ہے اور وہ ہے ’ناقدین کی باتوں پر کان نہ دھریں۔‘انھوں نے مجھے بتایا کہ جب وہ سپیس ایکس یا ٹیسلا قائم کر رہے تھے تو انھیں یقین نہیں تھا کہ وہ کبھی اس سے پیسہ بھی کمائیں گے اور سچ یہ ہے کہ کسی اور نے بھی ایسا نہیں سوچا ہو گا۔لیکن انھوں نے مایوس کرنے والوں کو نظر انداز کیا اور آگے بڑھتے چلے گئے۔کیوں؟ یاد رکھیں یہ وہ شخص ہے جو اپنی کامیابی کا فیصلہ اس بنیاد پر کرتا ہے کہ اس نے کتنے اہم مسائل کو حل کیا ہے، نہ کہ اس نے کتنا پیسہ کمایا ہے۔سوچیے کہ یہ کتنا آزاد شخص ہے۔ کوئی بڑا منصوبہ جس میں اس کی بہت ساری دولت لگی ہو اس کی ناکامی پر

اسے اس چیز کی فکر نہیں ہے کہ وہ بیوقوف لگ رہا ہے اور اس کا کتنا پیسہ ضائع ہو گیا، بلکہ اس کے بجائے وہ اہم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بارے میں سوچتا ہے۔اس سے فیصلہ سازی بہت آسان ہو جاتی ہے کیونکہ وہ اس بات پر توجہ مرکوز رکھ سکتا ہے کہ جس کے بارے میں اسے یقین ہے کہ یہ واقعی اہمیت کا حامل ہے۔اور لگتا ہے کہ مارکیٹ کو ان کا کام پسند آ رہا ہے۔اکتوبر میں امریکی سرمایہ کار بینکر مورگن سٹینلے نے سپیس ایکس کی قیمت 100 بلین ڈالر بتائی تھی۔اس کمپنی نے خلائی پرواز کے حوالے سے معشیت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، لیکن مسک کو سب سے زیادہ جس چیز پر فخر ہو گا وہ یہ ہے کہ ان کی کمپنی نے امریکی خلائی پروگرام کو کس طرح دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔پچھلے سال ان کے کریو ڈریگن راکٹ نے چھ خلابازوں کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر روانہ کیا۔ خلائی شٹلز کے سنہ 2011 میں ریٹائر کیے جانے کے بعد امریکی سرزمین سے جانے والا یہ پہلا مشن تھا۔6. زنگی کا مزہ لیں:اس گائیڈ کی پیروی کریں اور تھوڑا سا قسمت ساتھ دے تو آپ حیرت انگیز طور پر امیر اور مشہور بھی ہو جائیں گے۔ تب آپ آہستہ آہستہ اپنے خول سے باہر آنا شروع کر سکتے ہیں۔ایلون مسک کے بارے میں مشہور ہے کہ انھیں کام کرنے کا جنون ہے۔ وہ ٹیسلا ماڈل 3 کی تیاری کو ٹریک پر رکھنے کے لیے ہفتے میں 120 گھنٹوں تک کام کرنے پر فخر کرتے ہیں، لیکن ہماری ملاقات کے بعد ایسا لگتا ہے کہ وہ زندگی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی)

Share

About admin

Check Also

فیصل آباد میں دکانداروں کا کچرا چننے والی خواتین کو بے لباس کر کے تشدد ،انتہائی افسوسناک ویڈیو

فیصل آباد میں دکانداروں کا کچرا چننے والی خواتین کو بے لباس کر کے تشدد …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com