Breaking News
Home / اہم خبریں / جب انسان گناہ چھوڑنا چاہے اور گناہ اسکو نہ چھوڑے تو ۔۔۔۔

جب انسان گناہ چھوڑنا چاہے اور گناہ اسکو نہ چھوڑے تو ۔۔۔۔

گناہ بڑی لذت والی چیز ہے،انسان اسکے ہاتھوں مجبور ہوکر ہی جنت و دوزخ کماتا ہے.یہ داخلی چیز بھی ہے اور اندورنی بھی .گویا گناہ انسان کو اندر باہر سے دلکشی اور رغبت دلاتا رہتا ہے .کچھ لوگ گناہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور یہی ان کی زندگی کا حصول

ہوتا ہے لیکن بعض لوگ گناہ کو برا سمجھتے اور اس سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں لیکن باطنی روحانی طور پر وہ اتنے مضبوط نہیں ہوتے اور گناہ نہ کرنے پر قدرت نہیں رکھ پاتے .ہر وہ انسان جو گناہ آلودہ زندگی سے جان چھڑوانا چاہتا ہے اسکو آیت کریمہ کا روزانہ تین سو تیرہ مرتبہ بعد از عصر ذکر کرنا چاہئے. آیت کریمہ ایسا عمل ہے جو انسان کو اسکے گناہوں خامیوں اور کمزوریوں کا اللہ کے سامنے اعتراف کرنے کی تلقین کرتا ہے تو اللہ اپنے اس عاجز بندے کی گریہ زاری سن کر اسکا باطن روشن فرماتے اور بندے کو گناہ سے پرہیز کرنے کی قوت عطا فرماتے ہیں.ایسے بندوں کو جب بھی گناہ کی تحریک و ترغیب ملتی ہے تو ان کے اندر سے اتنی مضبوط آواز بلند ہوتی ہے کہ وہ گناہ سے بچنے کی کوشش کرتاہے تو اس میں کامیاب ہوجاتا ہے. یاد رکھیں کہ انسان گناہ چھوڑنا چاہتا ہے لیکن گناہ جب اس پر حاوی ہوجاتا ہے تو یہ اس انسان کو اتنی جلی نہیں چھوڑتا مگر جسے اللہ کریم توفیق اور قوت عطا فرما دیں ،ایسا بندہ گناہ کے شر سے بچ کر اپنی روح کو پاکیزہ بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے. ..دنیا کا ایسا درخت جو 106ایکڑ رقبے …جبکہ دوسری جانب ایک واقعہ کے مطابق ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺصحابۂ کرام علیہم الرضوان کے جھرمٹ میں تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی عورت آپ ﷺ کی خدمت میں روتی ہوئی حاضر ہوئی اور یہ اشعار پڑھنے لگی: جن کا ترجمہ کچھ یوں تھا (1)اے میرے

چاندسے بیٹے میرا باپ تم پرفدا ، کاش! مجھے تیرے مجرم کاعلم ہوتا۔ (2) تیرامجھ سے یوں اوجھل ہوناوحشت ناک ہے ، کیا تجھے یہودی بھیڑیا کھاگیاہے۔ (3) اگرتوفوت ہوچکاہے توراتوں رات تیرایہ مرجاناکس قدرجلدہواہے۔ (4) اگر توزندہ ہے تو تجھ پرلازم ہے کہ جہاں سے چلاتھاجیتے جی وہیں پلٹ آ۔آپ ﷺنے اس سے پوچھا :” اے عورت ! تجھے کیا صدمہ پہنچا ہے ؟ ”عرض کرنے لگی :” یامحمد (ﷺ)۔۔۔! میرا بچہ میرے سامنے کھیل رہا تھا کہ اچانک غائب ہوگیا اور اس کے بغیر میرا گھر ویران ہوگیا ہے۔”آپ ﷺنے فرمایا :” اگر اللہ عزوجل میرے ذریعہ تمہارے کو لوٹادے تو کیا تم مجھ پر ایمان لے آؤ گی۔” عورت بولی:” جی ہاں! مجھے انبیاء کرام حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم ، حضرتِ سَیِّدُنا اسحق اور حضرتِ سَیِّدُنا یعقوب علیہم السلام کے حق ہونے کی قسم ! میں ضرور ایمان لے آؤں گی۔”آپ ﷺ اٹھے اور دو رکعتیں ادا فرمائیں پھر دیر تک دعا مانگتے رہے ۔جب دعا مکمل ہوئی تو بچہ آپ ﷺ کے سامنے موجود تھا ۔آپ ﷺنے بچے سے پوچھا کہ ”تو کہاں تھا؟” بولا :” میں اپنی ماں کے سامنے کھیل رہا تھا کہ اچانک (عفریت نامی ) ایک کافر جن میرے سامنے آیا اور مجھے اٹھا کر سمندر کی طرف لے گیا ۔جب آپ ﷺ نے دعا مانگی تو اللہ عزوجل نے ایک مؤمن جن کو اس پر مسلط کردیا جو جسامت میں اس سے بڑا اور طاقتور تھا۔ اس نے مجھے کافر جن سے چھین کر آپ ﷺ کی بارگاہ میں پہنچا دیا اوراب میں آپ ﷺ کے سامنے حاضر ہوں،اللہ عزوجل آپ ﷺ پررحمت نازل فرمائے۔” وہ عورت یہ واقعہ سنتے ہی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئی ۔اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔۔۔ آمین ۔

Share

About admin

Check Also

سرکاری ملازمین کی موجیں۔۔ایک اور بڑی خوشخبری 18 دسمبر سے چھٹیاں کا اعلان کر دیا گیا

سرکاری ملازمین کی موجیں۔۔ایک اور بڑی خوشخبری 18 دسمبر سے چھٹیاں کا اعلان کر دیا …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com