Breaking News
Home / اہم خبریں / پاکستان میں فارن فنڈنگ ممنوع لیکن امریکہ ،برطانیہ ،بھارت آسٹریلیا میں سیاسی جماعتیں غیر ملکی امداد لے سکتی ہیں یا نہیں ؟ پڑھئے تفصیلات

پاکستان میں فارن فنڈنگ ممنوع لیکن امریکہ ،برطانیہ ،بھارت آسٹریلیا میں سیاسی جماعتیں غیر ملکی امداد لے سکتی ہیں یا نہیں ؟ پڑھئے تفصیلات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان میں تقریبا ًتمام بڑی جماعتیں ایک دوسرے پر زور شور سے ممنوعہ غیر ملکی ذرائع سے فنڈز لینے کے الزامات لگا رہی ہیں۔روزنامہ جنگ میں صابر شاہ کی شائع خبر کے مطابق ایسے معاملات پر دنیا بھر میں سالوں سے دھواں دھار بحثیں ہورہی ہیں،بھارتمیں بھی فارن فنڈنگ ممنوع ہے۔

2014 میں دہلی ہائیکورٹ نے بھارتی جنتا پارٹی اور کانگریس دونوں کو باہر سے فنڈز وصول کرنے کا مرتکب قرار دیا تھا،بھارت میں پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کیلئے انتخابی قوانین میں الیکشن کمیشن کے پاس رجسٹرڈ تمام سیاسی جماعتوں کے لئیے بیرونی ذرائع سے رقم حاصل کرنے کی ممانعت ہے،دہلی ہائیکورٹ کا فیصلہ اس بنیاد پر تھا کہ دونوں پارٹیوں کو ایسی کمپنیوں نے چندہ دیا جن کے اکثریتی حصص غیر ملکیوں کے تھے. لیکن بھارتی جنتا پارٹی نے 2016 میں ایک فنانس بل کے ذریعے ترمیم منظور کرالی جس کے مطابق مقامی کمپنیوں میں خواہ نصف سے زیادہ حصص غیرملکیوں کے ہوں، ان کے عطیات غیر ملکی نہیں سمجھے جائیں گے بشرطیکہ انہوں نے براہ راست سرمایہ کاری کی بعض شرائط پوری کی ہوں۔اخبار دی ہندو کے مطابق 18 مارچ 2018 کو لوک سبھا نے ایک بل منظور کیا کہ سیاسی جماعتوں کو 1976 سے بیرون ملک سے وصول کئے گئے فنڈز کی چھان بین سے مستثنیٰ کردیاجائے۔حیرت کی بات ہے کی بھارتی پارلیمنٹ میں لمبی لمبی بحثوں کی روایت کے باوجود اس بل کی بغیر کسی بحث کے منظوری دے دی گئی،بی جے پی نے غیر ملکی کمپنی کی تعریف بھی بدل دی جس کے مطابق 50 فیصد سے کم غیر ملکی حصص والی کمپنی غیر ملکی نہیں کہلائے گی،یہ ترمیم موثر بر ماضی یعنی ستمبر 2010 سے کی گئی۔اس ترمیم سے پہلے فارن کنٹریبیوشن ریگولیشن ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتوں کو ملنے والے غیرملکی فنڈز کی چھان بین کی جاسکتی تھی. فارن کنٹریبیوشن ریگولیشن ایکٹ کا مقصد یہ تھا کہ ایسے عطیات بھارت کی قومیسلامتی کو ضرر نہ پہنچائیں۔ 2020 میں حالات پھر بدلے اور الجزیرہ ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق فارن کنٹریبیوشن ریگولیشن ایکٹ میں پھر ترمیم کی گئی لیکن اس بار مقصد مودی سرکار پر تنقید کرنے والی این جی اوز اور انسانی حقوق کے گروپوں کو فنڈز سے محروم کرنا تھا. دنیا میںہرجگہ سیاسی جماعتوں کو قانون کے مطابق کئی سطح پر فنڈز ملتے ہیں۔عام لوگوں سے بھی، اشرافیہ اور با اثر حلقوں، کمپنیوں اور تاجر برادری کی طرف سے بھی،چند سال پہلے لندن کے اوورسیز ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ کی ایک ریسرچ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بعض پسماندہ جمہوریتوںمیں فنڈنگ فارن ایڈ کے طور پر بھی ہوسکتی ہے۔

Share

About admin

Check Also

پاکستان میں یکے بعد دیگرے 5 بھارتی طیارے لینڈ کیوں ہوئے؟ آخری طیارہ کون سے 12 پاکستانیوں کو لیکر دبئی گیا؟ سنسنی مچا دینے والی خبر نے ہنگامہ برپا کردیا

پاکستان میں یکے بعد دیگرے 5 بھارتی طیارے لینڈ کیوں ہوئے؟ آخری طیارہ کون سے …

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Powered by themekiller.com