Breaking News
Home / اہم خبریں / اب بھی کہو! عمران خان کو پاکستان کی فکر نہیں ۔۔۔ وزیراعظم کو پاکستان کی آنے والی نسلوں کی کتنی فکر ہے؟قوم کی آنکھیں کھول دینے والی تحریر

اب بھی کہو! عمران خان کو پاکستان کی فکر نہیں ۔۔۔ وزیراعظم کو پاکستان کی آنے والی نسلوں کی کتنی فکر ہے؟قوم کی آنکھیں کھول دینے والی تحریر

لاہور(ویب ڈیسک)وزیر اعظم پاکستان ہوتے ہوے خان صاحب نے پاکستان کی موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے اب تک کیا کیا ہے؟ کیا صرف الیکشن، اسمبلی اور اپوزیشن ہی سب کچھ ہے؟ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اور پاکستان جیسے جمہوری ملک میں جہاں سب چلتا ہے اور سزا و جزا کا کوئی رواج نہیں ۔ اپوزیشن کے ڈرامے اور کھینچا تانی لگی رہے گی اور کبھی ختم نہیں ہو گی جب تک کہ اس قوم کو دینی، دنیوی اور اخلاقی تعلیم کے ذریعے مینٹلی ڈویلپ کر کے اس قابل نہ کر دیا جاۓ کہ وو خود صحیح اور غلط کا فیصلہ کر سکیں اور اپنے لئے اور اپنے ملک کے لئے کوئی نیک، عادل اور ایماندار نمائندہ چن سکیں۔ عوام کی ایسی تعلیم و تربیت اور مینٹل ڈویلپمنٹ کی طرف توجہ کون دے سکتا ہے اور کون با اختیار ہے ایسی تبدیلی کے لئے؟ آپ، میں موجودہ حکومت یا پچھلی حکومتیں؟

اگر اس سلسلے میں حکومت کچھ کر سکتی ہے اور خصوصا جبکہ وہ تبدیلی کی دعویدار ہو تو کیا وہ کر رہی ہے؟ تعلیم کے نام پر صرف کاروبار ہو رہے ہیں۔ ملکی تعلیمی معیار اور چائلڈ ڈویلپمنٹ اینڈ لرننگ اور اخلاقیات ختم ہوتی جا رہی ہے۔ سکولز اور کالجز میں کلچرل شوز کے نام پر گانوں اور ڈانس کو عام کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی ملک کے عوام کی سوچ کو تبدیل کرنے میں معنی خیز اور مثبت ڈراموں، فلموں اور شارٹ کلپس کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور پھر میڈیا کے ذریعے تھاٹ پروووکنگ اخلاقی پیغامات بھی پھیلاۓ جاتے ہیں۔ لیکن ہماری ڈرامہ، فلم اینڈ ایڈ انڈسٹری کے ذریعے تو فحاشی اور بے حیائی عام کی جا رہی ہے۔ ڈرامہ اور موویز وغیرہ کے غیر اسلامی کونٹینٹس پر غور کریں کبھی۔ پاکستان ایک سیکولر ملک نہیں ہے۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس کا مطلب ہی “لا الہٰ الا اللہ” ہے ۔لڑکیوں کے لباس، پھر میرا جسم میری مرضی، اور پھر فیملی پالیٹکس، ساس، بہو، نند کے جھگڑے، نا محرم لڑکا لڑکی اور حتیٰ کہ شادی شدہ جوڑوں اور پھر فیملی کے مقدس رشتوں کے آپس میں اللیگل افیئرز, پارٹیز، شراب نوشی وغیرہ وغیرہ سب کچھ عام ٹی وی چینلز پر دکھایا جا رہا ہے۔ سستی شہرت کے لئے فنکار ہوں، کھلاڑی ہوں یا بے روزگار سیاستدان جس کا جو دل چاہتا ہے میڈیا پہ آ کر سر عام پریس کانفرنس کرتا ہے اور اپنا جھوٹا یا سچا موقف پیش کرتا ہے، یا اپنے جھوٹ، چوری اور فراڈ کو کور کرتا ہے یا ٹاک شوز میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے، بچے گھروں میں یہ سب نہیں دیکھتے ہوں گے کیا؟ جھوٹ بولو، جھوٹ کو کور کرنے کے لئے اور جھوٹ بولو، اپنی غلطی کبھی نہ مانو، دوسروں پر بے بنیاد الزام لگاؤ اور پھر ڈٹ جاؤ یا جو آپ کی بات نہ مانے اس سے لڑ پڑو، الزام تراشی کرو۔ میڈیا پر کون کون سے شوز، ڈرامہ اور کونٹینٹس دکھاۓ جا سکتے ہیں، کون کون سے لوگ آ کر آزادی راۓ کا استعمال کر سکتے ہیں، کن کن موضوعات پر بات ہو سکتی ہے اور اس کی لمٹس کیا ہیں اور اپنے بیانات اور جذبات میں وہ کس حد تک جا سکتے ہیں اور کس طرح کے الفاظ استعمال کر سکتے ہیں؟ یہ سٹینڈرڈز بنانا اور پیمرا کو گائیڈ کرنا کس کا کام ہے؟ اور اگر سٹینڈرڈز بنے ہوے ہیں تو سختی سے اس پر عمل درآمد کروانا کس کا کام ہے؟ آپ کا، میرا یا حکومت وقت کا؟

بچے اور خصوصا آج کل کی جنریشن کی پکنگ پاور تو بہت تیز ہے، یہ خان صاحب کون سی خلائی نسلوں کے مستقبل کی بات کرتے ہیں جن کو یہ سب کچھ نظر اور سمجھ نہیں آتا ہو گا؟آج کل کے معصوم بچے کیا یہ سب کچھ نہیں دیکھتے اور سیکھتے ہوں گے؟ جب وہ سوسائٹی میں، آرگنائزیشنز میں یا اپنی ازدواجی زندگیوں میں اپنا عملی قدم رکھیں گے تو وہ کیا پروڈکٹس بن چکے ہوں گے؟ کیا مینٹل ڈویلپمنٹ ہو چکی ہو گی ان کی؟ اپنی زندگیوں میں وہ کیا کیا پولیٹکس کھیلا کریں گے؟ اور پھر وہ کیا تربیت کریں گے اپنی آنے والی نسلوں کی اور پھر کیا حال ہو گا آنے والے پاکستان کا؟

کیا ابھی سے ان میں عدم برداشت، چڑ چڑا پن اور ضد کا عنصر نہیں بڑھتا جا رہا؟ اپنی بات منوانے کے لئے بڑوں کا عزت و احترام ختم نہیں ہوتا جا رہا، غلط بات پر بحث و مباحثہ اور ڈٹ جانا کہاں سے سیکھ رہے ہیں یہ؟ آنے والی نسل کی اسلامی، اخلاقی اور سوشل تربیت کے لئے یہ نام نہاد ریاست مدینہ کے دعویداراور مذہبی رہنما کیا سٹیپ اٹھا رہے ہیں؟ مندرجہ بالا وہ چھوٹے چھوٹے سادہ سے کام ہیں کہ جن کے لئے جناب کو کسی اکثریت کی ضرورت نہیں کیوں کہ اتنا ضمیر تو سب کا ہی زندہ ہو گا کہ اس فحاشی اور بے حیائی کو روکنے اور بچوں کی تربیت جیسے نیک کام میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔

ہر وقت اپنی سچائی اور صداقت کے دعووں، جذباتی تقاریر اور میں انکو گھسیٹوں گا اور رلاؤں گا کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے پاکستان میں جس کو حکومت درست کر سکتی ہے۔ آپ کا عدالتی نظام اگر سلو ہے یا مجبور ہے تو سارا وقت وہیں برباد کیوں کیا جا رہا ہے؟ جناب اللہ نے آپ کو جو موقع دیا ہے تو کم سے کم وہی کر لیا جاۓ جو آپ کے ہاتھ میں ہے۔ جناب کا خود ہی کہنا ہوتا ہے کہ مجھے حکومت نہیں چاہیے میری خواہش ہے کے جب میں اللہ کے پاس جاؤں تو فخر سے کہہ سکوں کہ میں نے کوشش ضرور کی تھی۔ مندرجہ بالا جن باتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے وو بھی تو دین کی اسلامی معاشرہ کی اور اس قوم کی خدمت ہے۔ اس کے لئے کیا آسمان سے فرشتے آئیں گے کوشش کرنے؟

لگتا تو کچھ یوں ہی ہے کہ یہاں یہی رونے چلتے رہنے ہیں۔ پہلے والے بھی کہتے تھے کے ہمیں کام کرنے دو ہماری ٹانگیں نہ کھینچو اور اب ان کے پاس بھی اکثریت نہ ہونے کا اور مافیا کی بلیک میلنگ کا بہانہ ہے کوئی پلان شلان نہیں تھا سب چورن تھا۔ نتیجہ یہ ہے کہ سب کادھندہ ایک ہی ہے۔ نقصان تو بس بھائی آپ کا ہے یا میرا ہے یا ہماری آنے والی نسلوں کا۔

Share

About admin

Check Also

سانحہ سیالکوٹ، سابق سری لنکن کھلاڑی سنتھ جے سوریا بھی پھٹ پڑے، وزیراعظم عمران خان سے بڑا مطالبہ کر دیا

سانحہ سیالکوٹ، سابق سری لنکن کھلاڑی سنتھ جے سوریا بھی پھٹ پڑے، وزیراعظم عمران خان …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by themekiller.com