Breaking News
Home / آج کے کالمز / دنیا کا تیز ترین موبائل انٹرنیٹ کس ملک میں ہے ؟ خبر نے سب کو حیران کردیا

دنیا کا تیز ترین موبائل انٹرنیٹ کس ملک میں ہے ؟ خبر نے سب کو حیران کردیا

یو اے ای (نیو زڈیسک) عالمی انٹرنیٹ انٹلیجنس فرم اوکلا کے تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں متحدہ عرب امارات تیز ترین موبائل نیٹ ورک رکھنے والا ملک بن گیا۔یو اے ای ذرائع ابلاغ کے مطابق متحدہ عرب امارات دنیا میں تیز ترین موبائل انٹرنیٹ رکھنے والے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے۔ انٹرنیٹ انٹیلی جنس فرم اوکلا کے مطابق یہ ریٹنگ سال رواں کی پہلی سہ ماہی سے متعلق ہے۔اس حوالے سے عرب نیوز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات خلیج کے ان تین ممالک میں شامل ہے جو اوکلا کی ٹاپ فہرست میں

شامل ہیں۔ ان میں قطر تیسرے نمبر پر ہے جبکہ سعودی عرب پانچویں نمبر پر ہے۔اوکلا کی عالمی انٹرنیٹ اسپیڈ فہرست کے مطابق یو اے ای میں ڈاؤن لوڈ اوسط اسپیڈ 178.52 ایم بی پی ایس ہے جب کہ عالمی سطح پر یہ اسپیڈ 48.40 ایم بی پی ایس تک ہے۔انڈیکس میں 135 سے زائد ممالک سے کا جائزہ لیا گیا ہے اور ماہانہ بنیادوں پر دنیا بھر میں انٹرنیٹ اسپیڈ کا موازنہ کیا گیا ہے۔ یہ اصلی صارفین کے ذریعے حاصل کیے گئے اعداد و شمار ہیں۔موبائل انٹرنیٹ کی اسپیڈ پچھلے سال سے بہت زیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہے۔کورونا وبا کی وجہ سے پچھلے سال لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو اپنے دفاتر اور کام کرنے کے مقامات سے دور ہونا پڑا اور گھروں سے کام کرنا پڑا جس میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ کا انتہائی اہم کردار ہے۔ افغانستان:شدید بارشوں اور سیلاب سے خواتین اور بچوں سمیت37 افراد ہلاک کابل (ویب ڈیسک )افغانستان کے مختلف صوبوں میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 37 افراد ہلاک ہو گئے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغانستان میں شدید بارشوں کے بعد دور دراز علاقوں میں خراب انفرااسٹرکچر کے نتیجے میں شدید نقصان پہنچا ہے اور اطلاعات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔صوبائی گورنر کے ترجمان جیلانی فرہاد نے بتایا کہ اتوار سے صوبہ ہرات میں آنے والے طاقتور سیلاب کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک ہو گئے۔صوبے کے کئی اضلاع میں ہزاروں ایکڑ کی فصل تباہ ہو گئی جبکہ مویشیوں کا بھی نقصان ہوا۔جیلانی فرہاد نےکہا کہ سب سے زیادہ متاثر ضلع ادرسکن ہوا جہاں چار بچوں اور ایک خاتون سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کی ہزاروں ایکڑ پر لگی فصل اور باغات تباہ ہو گئے جبکہ سیکڑوں مویشی بھی سیلاب کی نذر ہو گئے۔صوبائی انتظامیہ نے متاثرہ اضلاع میں صورتحال پر قابو پانے اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کے لیے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کردی ہے۔مغربی صوبے غور کے گورنر عبدالطاہر فائز زادہ کے مطابق سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر 6 بچوں سمیت 10 افراد ہلاک ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ سیلاب کے نتیجے میں غور کے 163 مکانوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے جبکہ 910 افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ افغانستان کی وزارت نیشنل ڈیزاسٹر کے ترجمان تمیم عاظمی نے کہا کہ ملک بھر کے مختلف صوبوں میں 405 خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے جبکہ کچھ جگہ سیلاب دریا بھر جانے کی وجہ سے آیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ شمالی صوبے ثمن گن میں 10 گاڑیاں سیلابی ریلے میں پھنس گئیں جبکہ تین افراد ہلاک بھی ہوئے۔واضح رہے کہ افغانستان کے محکمہ موسمیات نے ملک کے 34 میں سے 15 صوبوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کی پیش گوئی کی تھی اور 10 سے 30 ملی میٹر بارش کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا یہ سلسلہ 23 صوبوں میں کل تک جاری رہنے کا امکان ہے

Share

About admin

Check Also

ماہرین آثار قدیمہ نے حضرت لوط علیہ السلام کا گھر دریافت کر لیا

ماہرین آثار قدیمہ نے حضرت لوط علیہ السلام کا گھر دریافت کر لیا اسلام آباد …

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Powered by themekiller.com